بسم اللہ الرحمٰن
الرحیم
الحمد للہ والصلوۃ
والسلام علی رسول اللہ و بعد،
میری علمی زندگی میں سب سے عجیب سوال جو ہوا ہے وہ یہ ہے:
"کیا اشاعرہ کا
شمار اہل سنت والجماعت میں ہوگا؟"
اس سوال کے صیغہ نے مجھے بہت روکا ہے،
جس وقت میں صحیح علمی سوال سے فراغت پایا جو دلالت کرتی ہے سوال کرنے والے
کی سادگی اور اس کی اس امت کی تاریخ اور عقیدے سے جہالت پر۔
اور یہ کہ وہ نہیں
جانتا ہے ہر وہ شخص جو علم کی خوشبو پایا ہے،کہ
اس پر ہماری امت کی لمبی تاریخ کی انتہا
ہے کہ اشاعرہ ہی اہل سنت والجماعت
ہے۔
اور جب مطلق اہل سنت علمی کتابوں میں لکھا جاتا ہے- اس کی
قسموں کے اختلاف کے ساتھ- تو ان سے مراد یہی ہیں یعنی اشاعرہ ہیں۔
اور اشاعرہ
وہی ہیں جنہوں نے اختلافات کے جوابات دیے جو ان کے اور معتزلہ کے درمیان ہوئے یا
دیگر اسلامی فرقوں کہ کتب عقیدہ ،فقہ،اصول،تفسیر اور حدیث میں بلکہ لغت میں بھی
اور دوسرے علمی کتابوں میں جس میں بھی عقیدے کے اختلافات سے تعرض کیا گیا ہے۔
اور یہ کہ
اشاعرہ ہی وہ ہیں جو معتزلہ کے سامنے کھڑے ہوئے، چنانچہ ان لوگوں نے ان کے اقوال
کو کھوٹا ثابت کیا اور ان کے شبہات کو باطل کیا، اور حق کو لوٹایا اس کے نصاب ، اس امت کے سلف کے طریقے اور ان کے
منہج کی جانب۔
اور امام
ابو الحسن الاشعری نے اسلام میں عقیدہ میں کوئی نئے مذہب(مسلک) کی بنیاد نہیں ڈالی جو اس امت کے سلف کے خلاف ہو،
بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت دی اہل سنت کے مذہب کو لازم پکڑنے کی اپنی
زندگی کے ۴۰ سال معتزلہ کے مذہب میں گذارنے کے بعد، اس عرصہ میں ان کے مذہب کی
حقیقت جان لی، اور ماہر ہوگئے تھے ان کے فنوں اور ان کے جدال،مناظرے ، نظریے کے
اسلوب میں جس سے وہ قادر ہوئے ان کے رد پر
اور ان کے شبہات کو باطل کرنے پر۔
چنانچہ اس میں ان کے
گمراہ وں نے اہل سنت کو پایا جو اکثر تحقیق کرتے تو وہ ان کی اتباع کرتے، اور ان
کے نہج پر ہوجاتے جب وہ دیکھتے ان میں ان سے جھگڑنے والوں کو دلیل سے خاموش کرنے
کی صلاحیت اور ان کی جانب سے دفاع کرنے
کی، اور ان کے مذہب کو ثابت کرنے کی قدرت ہے۔
اور امام ابو الحسن الاشعری کا عقیدہ وہی ہے جس پر
امام احمد بن حنبل،شافعی،مالک،ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب رحمہم اللہ کاعقیدہ تھا اور وہی عقیدہ سلف صالحین کا تھا جیسا کہ اس کو اہل علم ائمہ نے نص دی جو اس عقیدہ پر تھے اسی پر وقت اور
زمانہ گذرے ۔
اور اسی لئے صحیح سوال یہ ہوتا کہ پوچھنے والا پوچھتا کہ:
"اشاعرہ
کے ساتھ اہل سنت والجماعت میں کون داخل ہوتا ہے؟"
اور اس کا جواب یہ ہےکہ
ان کے ساتھ ہر وہ داخل ہوتا ہے جو ان کےمنھج پر ہے، اور ان کے راستے کو اپنایا،
اگرچہ ان کے درمیان بعض مسائل میں اختلاف ہوا ہو۔
چنانچہ ماتردیہ
اہل سنت میں سے ہے، اثری اہل سنت میں سے ہے البتہیہ بات ظاہر ہے کہ اہل سنت میں سے ظاہر اور کتبِ علمی میں جن کی
مثال دی جاتی ہے وہ اشاعرہ ہیں، اور اسی
لیے جب اہل سنت مطلق کہا جاتا ہے تو اکثر مراد
اشاعرہ ہی ہوتے ہیں۔
جمہور اہل سنت انہی میں سے ہیں،
چنانچہ مالکیہ پورے
کے پورے اشاعرہ۔۔۔
اور شافعیہ کل کے کل
اشاعرہ۔۔۔
اور حنفیہ کل کے کل
یا تو اشاعرہ ہیں یا تو ماتردیہ اور ان دونوں کے درمیان(یعنی اشاعرہ اور ماتردیہ)
کوئی اختلاف نہیں۔۔۔۔
اور حنابلہ کے بڑے
بڑے متقدمین ائمہ اشاعرہ میں سے ہیں۔
اور رہی بات تفصیل کی
تو امت محمدیہ علی صاحبہا صلوٰۃ و سلام اشاعرہ میں سےہی ہیں جیسے باقلانی ،قشیری،ابو اسحاق شیرازی،ابو
الوفاء بن عقیل حنبلی،ابو محمد الجوینی، اور ان کے بیٹے ابی المعالی امام الحرمین،
حجۃ الاسلام غزالی، قاضی ابو بکر بن عربی،فخر الدین رازی،ابنِ عساکر، عز بن عبدالسلام
اور اثیر کے بیٹے،رافعی،نووی،سبکی اور ان کی اولاد،مزی،عراقی،ابن حجر عسقلانی ،ابن
حجر ھیثمی، سیوطی، رحمہم اللہ اور وہ جن کو شمار نہیں کیا جاسکتا ہے اور قلم ان کے
ذکر سے عاجز ہے۔
پس جن کو ہم نے ذکر کیا ہے یہ سب اور ان کے دگنا
چوگنا جن کو ہم نے ذکر نہیں کیا اہل سنت میں سے نہیں، تو پھر اہل سنت میں سے تاریخ
میں کون ہے؟
نہیں باقی رہتا اس کے بعد مگر کہ کہا
جائے: بے شک یہ سب وہم ہے معاصرین کی
جہالت کا اور اسی طرح آخری زمانہ میں حقائق کو بدلا جاتا ہے، چنانچہ عالم کو جاہل
کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے، اور جاھل کو عالم کہہ کر اس سے سوال کیا جاتا ہے، تاکہ
وہ بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے، اور اس طرح اسلام کے حلقہ کو توڑا و بگڑایا جاتا ہے۔(الشیخ محمد
حسن ھیتو)
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔