بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اشعری مکتبِ فکر کا پس منظر:
محدثین و
فقہاء معتزلہ کے مظالم کی خصوصی آماجگاہ تھے۔ چنانچہ کوئی مشہور محدث و فقیہ ان کے
تیرِ ظلم سے محفوظ نہ رہ سکا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ انہیں نفرت و حقارت کی
نگاہ سے دیکھنے لگے، ان کے خلاف بغض و عداوت کی آگ بھڑک اٹھی اور لوگ اس بات کو
مطلقاً بھول گئے کہ انہوں نے کوئی بھی نیکی کا کام دیا۔ اسلام کی مدافعت کی اور
زنادقہ و اہل بدعت کے سامنے سینہ سپر ہوئے تھے۔ لوگوں کے ذہن میں صرف یہ بات محفوظ
رہی کہ معتزلہ نے سلاطینِ وقت کو ہر متقی
امام اور نیک نہاد محدث کے خلاف بھڑکانے سے کبھی گریز نہیں کیا۔
جب خلیفہ
متوکل کا زمانہ آیا تو اس نے معتزلہ کو بارگاہِ خلافت سے نکال کر ان کے مخالفیں کو
شرفِ باریابی عطا کیا۔ متوکل نے علماء کی بیڑیاں کھول کر ان کو قید و بند کی
صعوبتوں سے آزاد کیا۔ فقہاء اور وہ لوگ جو عقائدی مسائل میں ان کے ہمنوا تھے، خم
ٹھوک کر معتزلہ کے خلاف میدانِ کارزار میں نکل آئے۔ جو علماء معتزلہ کے خلاف برسرِ
پیکار تھے ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو مناظرات میں معتزلہ کی طرح ماہرانہ بصیرت
رکھتے تھے، مگر افکار و آرا میں معتزلہ کے ہم خیال نہ تھے، یہ معتزلہ کے حق میں
شمشیر آبدار سے کم نہ تھے۔ عام و خاص سب ان کی حمایت و نصرت کا دم بھرتے اور خلفاء
بھی ان کے ساتھ دیتے تھے۔
تیسری صدی
ہجری کے اخیر میں دو آدمیوں نے بڑا نام پایا ایک ابوالحسن اشعری تھے جو بصرہ میں
بود و باش رکھتے تھے۔ دوسرے ابو منصور ماتریدی تھے جو سمرقند میں منظرِ عام پر آئے
یہ دونوں باہمی اختلافات کے باوجود معتزلہ کے خلاف نبرد آزما ہوئے۔ ہم پہلے امام
ابو الحسن اشعری کا حال لکھیں گے۔ بعد ازاں امام ابو منصور ماتریدیپر تبصرہ کریں
گے۔
امام اشعری
کی ولادت و وفات:
ابو الحسن
اشعری ۲۶۰ھ میں بصرہ میں پیدا ہوئے اور
۳۳۰ھ کے لگ بھگ وفات پائی۔
امام اشعری
معتزلہ کے ساختہ پرداختہ اور معتزلہ کے شیخ العصر ابو علی جبائی کے شاگرد تھے۔
امام اشعری کی فصاحت و بلاغت کا یہ عالم تھا کہ زمانہ شاگردی میں اپنے استاد کی
طرف سے مناظرہ کیا کرتے تھے۔
اگرچہ
اشعری معتزلہ کے دسترخوان علم و فضل سے فیض یافتہ تھے، مگر ان کا رجحان و میلان
محدثین و فقہاء کی جانب بڑھتا گیا اور وہ تدریجی طور پر افکارِ معتزلہ سے دور ہوتے
چلے گئے۔ حالانکہ نو وہ کبھی حلقۂ حدیث میں شامل ہوئے اور نہ محدثین کے طرز پر انہوں نے عقائد کا مطالعہ کیا
تھا۔
امام اشعری
کی تقریر:
امام اشعری
کچھ عرصہ تک کنج خلوت میں مقیم رہ کر
فریقین کے دلائل کا موازنہ کرتے رہے اور آخر کار ایک نتیجہ پر پہنچے۔ چنانچہ لوگوں کو حاضر
ہونے کے لئے کہا اور بروز جمعہ برسر منبر جامع مسجد میں لوگوں سے یوں مخاطب ہوئے۔
"ائے
لوگو! جو مجھے پہچانتا ہو ہو تو پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا میں اسے آگاہ کرنا
چاہتا ہوں کہ میں فلاں بن فلاں ہوں۔ میرا
عقیدہ یہ تھاکہ قرآن مخلوق ہے اور کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکتا۔ میں نے
برا کیا۔ اب اس سے توبہ کرتا ہوں اور معتزلہ کی تردید کے درپے ہوں۔ اب میں معتزلہ
کی فضیحت و رسوائی کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کروں گا۔
لوگو! میں
کچھ عرصہ غائب رہ کر دلائل کا موازنہ کرتا رہا اور مجھے ان میں کچھ فرق نظر نہ
آیا۔ میری نگاہ میں سبھی دلائل یکساں نوعیت کے تھے، کسی دلیل کو کسی کے مقابلہ میں
ترجیح حاصل نہ تھی۔ میں نے بارگاہ ایزدی میں التجاء کی کہ مجھے راہِ حق پر گامزن
کرے۔ چنانچہ جو ہدایت مجھے دربار ربّی سے ارزانی ہوئی اسے میں نے اپنی کتابوں میں
ودیعت کردیا۔ سابقہ عقائد کے لبادہ کو میں نے اتار بھینکا جیسے یہ لباس اتار رہا
ہوں یہ کہہ کر آپ نے اپنا کپڑا جسے اوڑھ رکھا تھا اتار دیا۔ اور اپنی کتابیں جو
محدثین و فقہاء کی طرز پر لکھی تھیں لوگوں کے حوالہ کردیں۔"
امام
ابوالحسن اشعری نے اپنی کتاب الابانہ کے مقدمہ میں اپنے مسلک و منہج کی تفصیلات
ذکر کی ہیں اور معتزلہ پر اپنے اعتراضات ذکر کیے ہیں۔ حمد و ثنا کے بعد ذکر کرتے
ہیں:
"اما
بعد- بہت سے معتزلہ و قدریہ اپنی خواہشات کی بناء پر اپنے پیش رَو اکابر کی تقلید
کرتے ہیں۔ وہ قرآنی آیات کی تاویل و تفسیر اسی انداز سے کرتے ہیں کہ خدا نے اس کا
ذکی کیا نہ اس کی حجت و برہان واضح کی نہ آنحضور ﷺ سے منقول اور نہ سلاف صالحین سے
مذکور ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رؤیت بالابصار کے بارے میں آنحضور ﷺ سے جو
روایات نقل کی ہیں معتزلہ ان کو تسلیم نہیں کرتے، حالانکہ یہ روایات مختلف الجہات
اور متواتر ہیں۔ معتزلہ شفاعت نبوی کے بھی منکر ہیں اور اس ضمن میں سلاف صالحین کی
نقل کردہ روایات کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ معتزلہ عزابِ قبر کو بھی تسلیم نہیں کرتے اور
نہ ہی اس بات کے قائل ہیں کہ کفار کو قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ اس کے باوصف کہ
یہ ایک اجماعی مسئل ہے جس پر سب صحابہ و تابعین متفق ہیں۔
معتزلہ کا
عقیدہ خلقِ قرآن سے متعلق مشرکینِ عرب کے افکار سے میل کھاتا ہے جو قرآن کے بارے
میں یہ کہتے تھے کہ "إِنْ هَذَا
إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ "(74:25) (یہ
تو بس ایک انسان کا کلام ہے) وہ یہ سمجھتے تھے کہ قرآن انسانی کلام ہے۔ جس طرح
مجوس کے نزدیک خالق دو ہیں ایک خالقِ خیر اور دوسرا خالقِ شر۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں
کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے وہ اسے چاہتا نہیں۔ بخلاف
ازیں جمہو ر مسلمانوں جا اعتقاد یہ ہے کہ
وہی چیز عالمِ وجود میں آتی ہیں جس سے خدا کی مشیت متعلق ہوتی ہے۔ بدوں مشیّت کوئی
شیز منصّۂ شہود پر جلوہ گر نہیں ہوسکتی۔
معتزلہ اس
آیت کو بھی ٹھکرا دیتے ہیں جس میں ارشاد ہوتا ہے:
" وَمَا
تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ
يَشَاءَ اللَّهُ" تم نہیں چاہتے جب تک اللہ نہ چاہے۔(76:30)
نیز فرمایا: "وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا" اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے۔( اگر ہم
چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے۔(32:13)
دوسری جگہ ارشاد ہوا:
"فَعَّالٌ
لِمَا يُرِيدُ" وہ جو چاہے کرتا ہے۔(86:16)
حضرت شعیب
علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"وَمَا
يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ " جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے ہم اس بستی میں لوٹ کر
نہیں آسکتے۔(7:89)
نبی کریم ﷺ
نے قدریہ کے اقوال و عقائد کی بناء پر انہیں امتِ محمدی کے مجوس قرار دیا۔ یہ بھی
مجوس کی طرح خیر و شر کے دوجداگانہ خالق قرار دیتے ہیں۔ مجوس کی طرح ان کا یہ بھی
عقیدہ ہے کہ خدا کی مشیت کے بغیر بھی شر کا صدور ہوجاتا ہے۔ وہ آیتِ قرآنیہ کے عین
برخلاف یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ نفع و
ضرر ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
"قُلْ لَا
أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا
ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ"
آپ فرمادیجئے کہ میں اپنے آپ کے لیے نفع و ضرر کا مالک نہیں۔ مگر یہ کہ خدا چاہے۔
ان کا
نظریہ قرآنِ کریم اور مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے۔
وہ یہ
عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ ذاتِ خداوندی کے علاوہ بھی ان میں اعمال کی قدرت پائی جاتی
ہے۔ یہ اپنے آپ کو ذاتِ خداوندی سے بے نیاز سمجھتے اور ان امور پر بھی قادر تصور کرتے ہیں جن پر خدا بھی قادر نہیں ہے۔ اسی
طرح مجوس کا نقطۂ نظریہ ہے کہ شیطان میں جن اعمالِ قبیحہ کی قدرت پائی جاتی ہے وہ
ذاتِ خداوندی میں بھی موجود نہیں۔ اسی وجہ سے ان کو امتِ محمدی کے مجوس قرار دینا
بالکل قرینِ قیاس ہے۔ یہ مجوس کے مذہب پر عامل اور انہی کے عقائد و افکار سے تمسک
کرتے تھے ۔ یہ مجوس کے گمراہانہ اقوال پر سر دھنتے اور لوگوں کو رحمتِ خداوندی سے
مایوس کرادیتے تھے، یہ معصیت پیشہ لوگوں کو ابدی جہنمی تصور کرتے تھے۔ باوجود یہ
کہ قرآن میں وارد ہے:
"وَيَغْفِرُ
مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ " وہ شرک کے سوا دوسرے گناہ اگر چاہے تو معاف کردیتا
ہے۔(4:48)
ان کا
نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ جو شخص جہنم میں ایک مرتبہ داخل ہوگیا وہ اس سے کبھی باہر
نہیں نکلے گا۔ اس کے عین برخلاف حدیث نبوی میں ارشاد ہوتا ہے:
"اللہ
تعالیٰ دوزخ میں سے ایسے لوگوں کو بھی نکالیں گے جو جل کر کوئلہ بن چکے ہوں
گے۔"
وہ ذاتِ
بری سے "وجہ"(چہرہ) کی نفی کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن میں فرمایا ہے:
" وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" (55:27)
وہ خدا کے دو ہاتھ بھی تسلیم نہیں کرتے۔ قرآن میں فرمایا:
"لِمَا
خَلَقْتُ بِيَدَيَّ" جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا(38:75)
وہ خدا کی آنکھوں پر بھی یقین نہیں رکھتے۔ حالانکہ قرآن میں
ارشاد ہوا:
"تَجْرِي
بِأَعْيُنِنَا" ہماری آنکھوں
کے سامنے چلتی تھی(54:14)
دوسری جگہ فرمایا:
" وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي" تاکہ میری آنکھوں کے سامنے تجھے پالا جائے۔(20:39)
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصّہ میں آسمانِ اول پر نزولِ اجلال فرماتے
ہیں۔ مگر معتزلہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ میں آگے چل کر ا س کی تفصیلات ذکر کروں گا۔
وبِاللہ التَوفیق۔
اگر معترض
یہ کہے کہ تم معتزلہ،قدریہ،جہمیہ،کوارج،شیعہ اور مرجئیہ کے اقوال کو تسلیم نہیں
کرتے۔ یہ بتائیے کہ تمہارا اپنا مذہب و مسلک کیا ہے۔
ہم جواباً
کہیں گے کہ ہم کتاب و سنت کی پیروی کرتے اور ان اقوال و آثار سے تمسک کرتے ہیں جو
صحابہ،تابعین، ائمہ حدیث سے منقول ہیں۔ ہم امام احمد کی ہموار کردہ راہ پر گام زن
ہیں، خداوندِ کریم انہیں شادمان رکھے ان کے درجات بلند فرمائے ان کا اجر و ثواب برھائے۔
ہم امام احمد کے مخالفین کے اقال سے احتراز کرتے ہیں۔ اس لئے کہ آپ ہم امامِ فاضل
اور رئیسِ کامل تھے۔ جب کفر و ضلالت کا چرچا ہوا تو آپ کی بدولت اللہ تعالیٰ نے حق
کو واضح فرمایا مبتدعین کی بدعات کا استیصال کیا۔ کج رو لوگوں کی کج روی دور کی۔
جو لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا تھےے ان کے شکوک کا ازالہ کیا۔ اللہ تعالیٰ اس
امامِ جلیل اور عالم نبیل پر رحم فرمائے اور سب ائمہ کرام پر بارانِ رحمت برسائے۔(تاریخ
المذاھب الاسلامیہ 271-276)
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔